منگلورو:16/فروری (ایس او نیوز) منگلورو کے نواحی علاقہ اُلال میں منگلورو پولس کمشنرایم چندرشیکھر نے آج 16 فروری سے 25فروری کی دوپہر 12بجے تک امتناعی احکامات جاری کردئے، جس کے ساتھ ہی پاپولر فرنٹ آف انڈیا کرناٹکا کی طرف سے اُلال میں منعقدہ دس سالہ جشن کے موقع پر 17فروری کو یونیٹی مارچ کے اہتمام پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔
البتہ جمعرات شام کو ملی اطلاع کے مطابق اب اُلال میں منعقدہ دس سالہ جشن اور یونیٹی مارچ اُلال کے بجائے مینگلور میں منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع نے خبر دی ہے کہ ضلع جنوبی کینرا کی انتظامیہ نے کچھ شرائط کے ساتھ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو کل جمعہ 17 فروری کو یونیٹی مارچ نکالنے کی اجازت دی ہے۔ بتایا گیاہے کہ پی ایف آئی کو اپنا پروگرام صرف2:30 بجے سے 5:30 بجے کے درمیان کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اطلاع کے مطابق اب پی ایف آئی کا یونیٹی مارچ مینگلور میں نکالا جائے گا۔
کمشنر چندرشیکھر نے بتایا کہ امن وامان کو برقرار رکھنے کی غرض سے اُلال میں پی ایف آئی کو دس سالہ جشن کے موقع پر یونیٹی مارچ کی اجازت نہیں دی گئی ہے، اور علاقہ میں امتناعی احکامات جاری کرتے ہوئے اعلانیہ جلسے اور پروگرام کے انعقاد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر پاپولر فرنٹ آف انڈیا کرناٹکا نے 17فروری کو اُلا ل میں منعقد ہونے والے یونیٹی مارچ کی تشہیر کے لئے اُلال، توکٹو اورکلاپو وغیرہ میں استقبالیہ کمان ، بیانر، جھنڈے وغیرہ نصب کئے تھے، جسے پولس نے نکال باہرکرتے ہوئے کیس بھی در ج کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پی ایف آئی کے کارکنوں نے بدھ کی رات تینوں گاؤں کے مختلف جگہوں پر بیانر، کمان اور پوسٹر وغیرہ لگائے تھے۔ چونکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے انہیں پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی تھی تو ڈی سی اور پولس کمشنر کے حکم کے مطابق پولس عملہ نے تمام تشہیری اشیاء کو نکال باہر کرکے اُن اشیائ کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اُلال پولس تھانے میں اس تعلق سے کیس بھی درج کرلیا ہے۔